Urdu Shairy In Urdu Font لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Urdu Shairy In Urdu Font لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

ایک شکستہ روح قالب میں لیے پھرتے ہیں لوگ
(ظفرؔ مرادآبادی )
دوست زوحِ دشمنی ، قاتل شناسائی لگے
ساتھ جسکے دو قدم چلیے وہ ہر جائی لگے

سونی سونی کھڑکیاں ویران انگنائی لگے
اپنے گھر میں بھی مجھے صحرا کی تنہائی لگے

پاس جاکر دیکھیے ہر شخص نکلے ہے سراب
دور سے جو پیکرِ اخلاص و رعنائی لگے

اک شکستہ روح لیے قالب میں پھرتے ہیں لوگ
زندگی  جیسے  جنوں کی کارفرمائی لگے

بے سرے ماتم زدہ لہجے تو ہیں یارو!کہاں؟
گفتگو میں اتنی موسیقی کہ شہنائی لگے

ہر طرف نفرتیں ، یہ قتل و خوں ، یہ وحشتیں
شہر میں رہتے ہوئے انسان صحرائی لگے

اس قدر بیزار ہیں زخمِ تمنّا سے ظفرؔ
جو بھی نشتر اب ہمیں مارے مسیحائی لگے
Dr Saif Qazi



نگاہِ ساقیِ نا مہرباں یہ کیا جانے
 (مجروحؔ سلطان پوري)

نگاہ ِ ساقي ِ نامہرباں يہ کيا جانے
کہ ٹوٹ جاتے ہيں خود دل کے ساتھ پيمانے

ملي جب ان سے نظر بس رہا تھا ايک جہاں
ہٹي نگاہ تو چاروں طرف تھے ويرانے

حيات لغزش ِ پيہم کا نام ہے ساقي
لبوں سے جام لگا بھي سکوں خدا جانے

وہ تک رہے تھے، ہميں ہنس کے پي گئے آنسو
وہ سن رہے تھے، ہميں کہہ سکے نہ افسانے

يہ آگ اور نہيں دل کي آگ ہے، ناداں!
چراغ ہو کہ نہ ہو، جل بجھيں گے پروانے

فريب  ساقي ِ محفل نہ پوچھئے، مجروحؔ
شراب ايک ہے، بدلے ہوئے ہيں پيمانے



Dr Saif Qazi


ہم ہيں متاعِ کوچہ و بازار کي طرح
(مجروحؔ سلطان پوري)

ہم ہيں متاع کوچہ و بازار کي طرح
اٹھتي ہے ہر نگاہ خريدار کي طرح

اس خوئے تشنگي ميں بہت ہے کہ ايک جام
ہاتھ آ گيا ہے دولت ِ بيدار کي طرح

وہ تو ہيں کہيں اور مگر دل کے آس پاس
پھرتي ہے کوئي شئے نگہ ِ يار کي طرح

سيدھي ہے راہ ِ شوق پہ يونہي کبھي کبھي
خم ہو گئي ہے گيسوئے دلدار کي طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ِ ناخن ِ جنوں
زخم ِ جگر ہوئے لب و رخسار کي طرح

مجروحؔ لکھ رہے ہيں وہ اہل ِ وفا کا نام
ہم بھي کھڑے ہوئے ہيں گنہگار کي طرح
Dr Saif Qazi


اپنے ہمراہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے
(ابن انشا ؔٴ)

اپنے ہمراہ جو آتے ہو ادھر سے پہلے
دشت پڑتا ہے مياں عشق ميں گھر سے پہلے

چل ديا اٹھ کے سوئے شہر وفا، کوئے حبيب
پوچھ لينا تھا کسي خاک بسر سے پہلے

عشق پہلے بھي کيا، ہجر کا غم بھي ديکھا
اتنے تڑپے ہيں نہ گھبرائے نہ ترسے پہلے

جي بہلتا ہي نہيں اب کوئي ساعت، کوئي پل
رات ڈھلتي ہي نہيں چار پہر سے پہلے

ہم کسي در پہ نہ ٹھٹھکے، نہ کہيں دستک دي
سينکڑوں گھر تھے ميري جاں تيرے در سے پہلے

چاند سے آنکھ ملي، جي کا اجالا جاگا
ہم کو سو بار ہوئي صبح سحر سے پہلے
Dr Saif Qazi


آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
(مير تقي ميرؔ)

آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
تو بھي ہم دل کو مار رکھتے ہيں

برق کم حوصلہ ہے ہم بھي تو
دل اک بے قرار رکھتے ہيں

غير ہے مورد عنايت، ہائے
ہم بھي تو تم سے پيار رکھتے ہيں

نہ نگہ، نہ پيام، نہ وعدہ
نام کو ہم بھي يار رکھتے ہيں

ہم سے خوش زمزمہ کہاں يوں تو
لب ہ لہجہ ہزار رکھتے ہيں

چھوٹے دل کے ہيں يہ بتاں مشہور
بس يہي اعتبار رکھتے ہيں

پھر بھي کرتے ہيں ميرؔ صاحب عشق
ہيں جواں اختيار رکھتے ہيں
Dr Saif Qazi


ہزاروں خواہشيں ايسي کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
(مرزا اسد اللہ خان غالبؔ)

ہزاروں خواہشيں ايسي کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان ليکن پھر بھي کم نکلے

ڈرے کيوں ميرا قاتل؟ کيا رہے گا اس کي گردن پر؟
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر يوں دم بدم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہيں ليکن
بہت بے آبرو ہو کر تيرے کوچے سے ہم نکلے

بھرم کھل جائے ظالم تيرے قامت کي درازي کا
اگر اس طرہٴ پُر پيچ و خم کا پيچ و خم نکلے

مگر لکھوائے کوئي اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئي صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

ہوئي اس دور ميں منسوب مجھ سے بادہ آشامي
پھر آيا وہ زمانہ ، جو جہاں ميں جام ِ جم نکلے

ہوئي جن سے توقع خستگي کي داد پانے کي
وہ ہم سے بھي زيادہ خستہ ِ تيغ ِ ستم نکلے

محبت ميں نہيں ہے فرق مرنے اور جينے کا
اسي کو ديکھ کر جيتے ہيں جس کافر پہ دم نکلے

ذرا کر زور سينے پر کہ تير ِ پُر ستم نکلے
جو وہ نکلے تو دل نکلے ، جو دل نکلے تو دم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہيں ايسا نہ ہو ياں بھي وہي کافر صنم نکلے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہيں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

Dr Saif Qazi

کي وفا ہم سے تو غير اس کو جفا کہتے ہيں
(مرزا اسد اللہ خان غالبؔ)

کي وفا ہم سے تو غير اس کو جفا کہتے ہيں
ہوتي آئي ہے کہ اچھوں کہ برا کہتے ہيں

آج ہم اپني پريشاني ِ خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہيں پر ديکھيے کيا کہتے ہيں

اگلے وقتوں کے ہيں يہ لوگ انہيں کچھ نہ کہو
جو مے و نغمہ کو اندوہ ربا کہتے ہيں

ہے پرے سرحد ِ ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہل ِ نظر قبلہ نما کہتے ہيں

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آيا ہے
خار ِ رہ کو ترے ہم مہر گيا کہتے ہيں

اک شرر دل ميں ہے، اس سے کوئي گھبرائے گا کيا
آگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہوا کہتے ہيں

ديکھيے لاتي ہے اس شوخ کي نخوت کيا رنگ
اس کي ہر بات پہ ہم نام ِ خدا کہتے ہيں

وحشت و شيفتہ اب مرثيہ کہويں شايد
مر گيا غالب ِ آشفتہ نوا ، کہتے ہيں
Dr Saif Qazi


تمناؤں ميں الجھايا گيا ہوں
(شادؔ عظيم آبادي)

تمناؤں ميں الجھايا گيا ہوں
کھلونے دے کے بہلايا گيا ہوں

ہوں اس کوچے ميں ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آيا گيا ہوں

دل ِ مضطر سے پوچھ اے رونق ِ بزم
ميں خود آيا نہيں، لايا گيا ہوں

سويرا ہے بہت اے شور ِ محشر
ابھي بے کار اٹھوايا گيا ہوں

لحد ميں کيوں نہ جاؤں منہ چھپا کر
بھري محفل سے اٹھوايا گيا ہوں

کجا ميں اور کجا، اے شادؔ، دنيا
کہاں سے کس جگہ لايا گيا ہوں
Dr Saif Qazi

مجھے دے کے مے ميرے ساقيا، ميري تشنگي کو ہوا نہ دے
(گنيش بہاري طرزؔ)

مجھے دے کے مے ميرے ساقيا، ميري تشنگي کو ہوا نہ دے
ميري پياس پر بھي تو کر نظر، مجھے مے کشي کي سزا نہ دے

ميرا ساتھ اے ميرے ہمسفر نہيں چاہتا ہے تو جام دے
مگر اس طرح سر ِ رہگزر مجھے ہر قدم پہ صدا نہ دے

ميرا غم نہ کر ميرے چارہ گر، تيري چارہ جوئي بجا مگر
ميرا درد ہے ميري زندگي، مجھے درد ِ دل کي دوا نہ دے

ميں وہاں ہوں اب ميرے ناصحا کي جہاں خوشي کا گزر نہيں
ميرا غم حدوں سے گزر گيا، مجھے اب خوشي کي دعا نہ دے

وہ گرائيں شوق سے بجلياں، يہ ستم کرم ہيں، ستم نہيں
کہ وہ طرز برق ِ جفا نہيں جو چمک کے نور ِ وفا نہ دے
Dr Saif Qazi


آ کہ وابستہ ہے اس حسن کي ياديں تجھ سے

(فيض احمد فيض)

آ کہ وابستہ ہے اس حسن کي ياديں تجھ سے
جس نے اس دل کو پري خانہ بنا رکھا تھا
جس کي الفت ميں بھلا رکھي تھي دنيا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہيں تيرے قدموں سے وہ راہيں جن پر
اسکي مدہوش جواني نے عنايت کي ہے
کارواں گزرے ہيں جن سے اسي رعنائي کے
جس کي ان آنکھوں نے بےسود عبادت کي ہے

تجھ سے کھيلي ہيں وہ محبوب ہوائيں جن ميں
اسکے ملبوس کي افسردہ مہک باقي ہے
تجھ پہ بھي برسا ہے اس بام سے مہتاب کا نور
اور بيتي ہوئي راتوں کي کسک باقي ہے

تونے ديکھي ہيں وہ پيشاني، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگي جن کے تصور ميں لٹا دي ہم نے
تجھ پہ اٹھي ہيں وہ کھوئي ہوئي ساحر آنکھيں
تجھ کو معلوم ہے کيوں عمر گنوا دي ہم نے

Dr Saif Qazi

کچھ اشارے تھے جنہيں دنيا سمجھ بيٹھے تھے ہم
(فراقؔ گورکھپوري)

کچھ اشارے تھے جنہيں دنيا سمجھ بيٹھے تھے ہم
اس نگاہ ِ آشنا کو کيا سمجھ بيٹھے تھے ہم

رفتہ رفتہ غير اپني ہي نظر ميں ہو گئے
واہ ري غفلت! تجھے اپنا سمجھ بيٹھے تھے ہم

ہوش کي توفيق بھي کب اہل ِ دل کو ہو سکي
عشق ميں اپنے کو ديوانہ سمجھ بيٹھے تھے ہم

بے نيازي کو تيري پايا سراسر سوز و درد
تجھ کو اک دنيا سے بيگانہ سمجھ بيٹھے تھے ہم

بھول بيٹھي وہ نگاہ ِ ناز عہد ِ دوستي
اس کو بھي اپني طبيعت کا سمجھ بيٹھے تھے ہم

حسن کو اک حسن کي سمجھے نہيں اور اے فراقؔ
مہرباں، نا مہرباں، کيا کيا سمجھ بيٹھے تھے ہم

Dr Saif Qazi


آنکھوں سے ميري اس ليے لالي نہيں جاتي
(وصي شاہ)

آنکھوں سے ميري اس ليے لالي نہيں جاتي
يادوں سے کوئي رات جو خالي نہيں جاتي

اب عمر، نہ موسم، نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کي مگر خام خيالي نہيں جاتي

آئے کوئي آ کر يہ ترے درد سنبھالے
ہم سے تو يہ جاگير سنبھالي نہيں جاتي

معلوم ہميں بھي ہيں بہت سے تيرے قصے
ہر بات تيری ہم سے اچھالي نہيں جاتي

ہمراہ تيرے پھول کھلاتي تھي جو دل ميں
اب شام وہي درد سے خالي نہيں جاتي

ہم جان سے جائيں گے تبھي بات بنے گي
تم سے تو کوئي راہ نکالي نہيں جاتي
Dr Saif Qazi


آہ کو چاہئيے اک عمر اثر ہونے تک
(مرزا اسد اللہ خان غالبؔ)

آہ کو چاہئيے اک عمر اثر ہونے تک
کون جيتا ہے تري زلف کے سر ہونے تک

دام ہر موج ميں ہے حلقہ صد کام نہنگ
ديکھيں کيا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

عاشقي صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کيا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، ليکن
خاک ہو جائيں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کي تعليم
ميں بھي ہوں ايک عنايت کي نظر ہونے تک

يک نظر بيش نہيں فرصت ہستي، غافل!
گرمي بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک

غم ہستي کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ ميں جلتي ہے سحر ہونے تک