Meer Taqi Meer لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Meer Taqi Meer لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

گرچہ کب دیکھتے ہو، پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو

عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو یک نظر دیکھو

یوں عرق جلوہ گر ہے اس مونہہ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو

ہر خراشِ جبیں جراحت ہے
ناخنِ شوق کا ہنر دیکھو

تھی ہمیں آرزو لبِ خنداں
سو عوض اس کے چشمِ تر دیکھو

رنگِ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک دن آؤ یاں سحر دیکھو

دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو

پہنچے ہیں ہم قریب مرنے کے
یعنی جاتے ہیں دُور گر دیکھو

لطف مجھ میں بھی ہیں ہزاروں میرؔ
دیدنی ہوں جو سوچ کر دیکھو
Dr Saif Qazi


آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
(مير تقي ميرؔ)

آرزوئيں ہزار رکھتے ہيں
تو بھي ہم دل کو مار رکھتے ہيں

برق کم حوصلہ ہے ہم بھي تو
دل اک بے قرار رکھتے ہيں

غير ہے مورد عنايت، ہائے
ہم بھي تو تم سے پيار رکھتے ہيں

نہ نگہ، نہ پيام، نہ وعدہ
نام کو ہم بھي يار رکھتے ہيں

ہم سے خوش زمزمہ کہاں يوں تو
لب ہ لہجہ ہزار رکھتے ہيں

چھوٹے دل کے ہيں يہ بتاں مشہور
بس يہي اعتبار رکھتے ہيں

پھر بھي کرتے ہيں ميرؔ صاحب عشق
ہيں جواں اختيار رکھتے ہيں