Nasir Kazmi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Nasir Kazmi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi
غزلِ
ناصر کاظمی 

ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی
 شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
 اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی

پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
 بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
 مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی

رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے
 یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی

یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا
 کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
 یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی

میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
 تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی

جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
 تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی

کھُلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
 وہ لوگ تھے، نہ وہ جلسے، نہ شہرِ رعنائی

وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
 اُنہی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی

پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
 بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی

Dr Saif Qazi

آج تو بے سبب اداس ہے جي
(ناصر کاظمي)

آج تو بے سبب اداس ہے جي
عشق ہوتا تو کوئي بات بھي تھي

جلتا پھرتا ہوں کيوں دوپہروں ميں
جانے کيا چيز کھو گئي ميري

وہيں پھرتا ہوں ميں بھي خاک بسر
اس بھرے شہر ميں ہے ايک گلي

چھپتا پھرتا ہے عشق دنيا سے
پھيلتي جا رہي ہے رسوائي

ہمنشيں، کيا کہوں کہ وہ کيا ہے
چھوڑ يہ بات نيند اڑنے لگي

آج تو وہ بھي کچھ خموش سا تھا
ميں نے بھي اس سے کوئي بات نہ کي

ايک دم اس کے ہاتھ چوم ليے
يہ مجھے بيٹھے بيٹھے کيا سوجھي

تو جو اتنا اداس ہے ناصر
تجھے کيا ہوگيا، بتا تو سہي
لیبلز: 0 تبصرے | | edit post