ڈاکٹر جاوید جمیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ڈاکٹر جاوید جمیل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل

نہ ملا  کبھی کسی سے اسے دیوتا سمجھ کر
بھلا کیسے پوجتا پھر میں اسے خدا سمجھ کر

میں یہ چاہتا ہوں مجھ سے وہ ملے تو دوست بن کے
نہ بڑا سمجھ کے خود کو،  نہ مجھے بڑا سمجھ کر

کوئی انکو یہ بتا دے مرے منہ میں بھی زباں ہے
وہ ستم کریں گے کب تک مجھے بے نوا سمجھ کر

کئے فیصلے ہمیشہ ترے رخ کو دیکھ کر ہی
کبھی باوفا سمجھ کر، کبھی بے وفا سمجھ کر

ترا غم اٹھا رہا ہوں، ترا درد سہہ رہا ہوں
مری بندگی سی الفت کی حسیں جزا سمجھ کر

مرے عشق کو مقدر درجات دے رہا ہے
کبھی ابتدا سمجھ کر، کبھی انتہا سمجھ کر

کوئی حکم دوں اسے میں یہ نہیں مقام میرا
مری بات کاش مانے مری التجا سمجھ کر

مری باطنی حقیقت انھیں کیا دکھائی دے گی
جو مجھے ستا رہے ہیں کوئی سر پھرا سمجھ کر

 وہ زوال_ آدمیت کی ہے شاہراہ جاوید
ہے زمانہ جس کا راہی رہ_ ارتقا سمجھ کر
Dr Saif Qazi

غزل
از ڈاکٹر جاویدؔ جمیل

ہر ایک شب کو ترے نام ہونا پڑتا ہے
اداس دل کو سرِ شام ہونا پڑتا ہے

خبیث تہمتیں دامن کو چیر جاتی ہیں
تمہارے واسطے بدنام ہونا پڑتا ہے

ہمیں سے لگتا نہیں ہے کسی پہ بھی الزام
ہمیں کو موردِ الزام  ہونا پڑتا ہے

قلم ہیں کتنے جو تلوار بن کے جیتے ہیں
یہاں قلم کو بھی نیلام ہونا پڑتا ہے

یہی ہے ارض و سماوات کا اصول، ہمیں
کبھی سبب کبھی انجام ہونا پڑتا ہے

ہر اک گناہ گواہی سے بچ نہیں سکتا
کبھی تو رجم سرِ عام ہونا پڑتا ہے

ہدف پہ لگنے سے پہلے یہ ہوتا ہے جاویدؔ
کئی نشانوں کو ناکام ہونا پڑتا ہے