Shakeel Badayuni لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Shakeel Badayuni لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

غم عاشقي سے کہہ دو، رہ عام تک نہ پہنچے
(شکيل بدايوني)
غم عاشقي سے کہہ دو، رہ عام تک نہ پہنچے
مجھے خوف ہے يہ تہمت ميرے نام تک نہ پہنچے

ميں نظر سے پي رہا تھا تو يہ دل نے بددعا دي
تيرا ہاتھ زندگي بھر کبھي جام تک نہ پہنچے

نئي صبح پر نظر ہے، مگر آہ! يہ بھي ڈر ہے
يہ شہر بھي رفتہ رفتہ کہيں شام تک نہ پہنچے

وہ نوائے مزمہل کيا نہ ہو جس ميں دل کي دھڑکن
وہ صدائے اہل دل کيا جو عوام تک نہ پہنچے

انہيں اپنے دل کي خبريں ميرے دل سے مل رہي ہيں
ميں جو ان سے روٹھ جائوں، تو پيام تک نہ پہنچے

يہ ادائے بے نيازي تجھے بے وفا مبارک
مگر ايسي بے رخي کيا کہ سلام تک نہ پہنچے

جو نقاب رخ اٹھا دي تو يہ قيد بھي لگا دي
اٹھے ہر نگاہ ليکن کوئي بام تک نہ پہنچے

وہي اک خموش نغمہ ہے شکيل جان ہستي
جو زبان تک نہ آئے، جو کلام تک نہ پہنچے