Saif Qazi
جب بھی دیکھا مرے کردار  پہ دھبا کوئی
دیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی

لوگ ماضی کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں
مجھ کو تو یاد نہیں کل کا بھی قصہ کوئی

بے سبب آنکھ میں آنسو نہیں آیا کرتے
آپ سے ہوگا یقیناً  مرا رشتہ کوئی

یاد آنے لگا ایک دوست کا برتاؤ مجھے
ٹوٹ کر گر پڑا جب شاخ سے پتّہ کوئی

بعد میں ساتھ نبھانے کی قسم کھا لینا
دیکھ لو جلتا ہوا پہلے پتنگا کوئی

اس کو کچھ دیر سنا لیتا ہوں رودادِ سفر
راہ میں جب کبھی مل جاتا ہے اپنا کوئی

کیسے سمجھیگا بچھڑنا وہ کسی کا رانا
ٹوٹتے دیکھا نہیں جس نے ستارہ کوئی
لیبلز: , , | edit post
ردعمل: 
0 Responses

ایک تبصرہ شائع کریں