ہرایک روح
میںاک غم چھپا لگے ہے مجھے
(جان نثار اختر)
ہرایک روح
میںاک غم چھپا لگے ہے مجھے
یہ زندگی
تو کوئی بددعا لگے ہے مجھے
جو آنسوؤں
میں کبھی رات بھیگ جاتی ہے
بہت قریب
وہ آوازِ پا لگے ہے مجھے
میں سو
بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میں
تمام رات
کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے
میںجب
بھی اُس کے خیالوں میںکھو سا جاتا ہوں
وہ خود
بھی بات کرے تو بُرا لگے ہے مجھے
دبا کے
آئی ہے سینے میںکون سی آہیں
کچھ آج
رنگ ترا سانولا لگے ہے مجھے
نہ جانے
وقت کی رفتار کیا دکھاتی ہے
کبھی کبھی
تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے
بکھر گیا
ہے کچھ اس طرح آدمی کا وجود
ہر ایک
فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے
اب ایک
آدھ قدم کا حساب کیا رکھئے
ابھی تلک
تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے
حکایتِ
غمِ دل کچھ کشش تو رکھتی ہے
زمانہ غور
سے سُنتا ہوا لگے ہے مجھے
