Khumar Barah bankawi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Khumar Barah bankawi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi



جذبات میں وہ پہلی سی شدّت نہیں رہی

ضعفِ قویٰ نے آمدِ پیری کی دی نوید
وہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی

سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا
دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

کمزوریِ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا
جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے
دامانِ یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

Dr Saif Qazi

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدّتوں میں ہم
(خمارؔ بارہ بنکوی )

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے
دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیے

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدّتوں میں ہم
قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھیے

آغازِعاشقی کا مزا آپ جانیے
انجامِ عاشقی کا مزا ہم سے پوچھیے

وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھیے

جلتے دلوں میں جلتے گھروں جیسی ضَو کہاں
سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھیے

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
ہنسیے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھیے

ہم توبہ کر کے مر گئے قبلِ اجل خمارؔ
توہینِ مے کشی کا مزا ہم سے پوچھیے
Dr Saif Qazi

خمارؔ بارہ بنکوی کی ایک غزل

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے
کیا تصور بھی لٹنے والا ہے

غم تو ہے عینِ زندگی لیکن
غمگساروں نے مار ڈالا ہے

عشق مجبور و نامراد سہی
پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے

دیکھ کر برق کی پریشانی
آشیاں خود ہی پھونک ڈالا ہے

کتنے اشکوں کو کتنی آہوں کو
اک تبسم میں اس نے ڈھالا ہے

تیری باتوں کو میں نے اے واعظ
احتراماً ہنسی میں ٹالا ہے

موت آئے تو دن پھریں شاید
زندگی نے تو مار ڈالا ہے

شعر، نغمہ ، شگفتگی، مستی
غم کا جو روپ ہے نرالا ہے

لغزشیں مسکرائیں ہیں کیا کیا
ہوش نے جب مجھے سنبھالا ہے

دم اندھیرے میں گھٹ رہا ہے خمار
اور چاروں طرف اجالا ہے