ندیمؔ احمد قاسمی ، Nadeem Ahmed Qasmi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ندیمؔ احمد قاسمی ، Nadeem Ahmed Qasmi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi


غزلِاحمد ندیمؔ قاسمی


انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

اس حسنِ اتفاق پہ لٹ کے بھی شاد ہوں
تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا

دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئ
یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا

اس رشتہء لطیف کے اسرار کیا کھلیں
تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا

چھپ چھپ کے روؤں اور سرِ انجمن ہنسوں
مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا

اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
عادی فنا کا تھا تو پجاری بقا کا تھا

ٹوٹا تو کتنے آئینہ خانوں پہ زد پڑی
اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا

حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیم
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا


Dr Saif Qazi
احمد ندیمؔ قاسمی کی ایک پیاری غزل

مجھے دکھ یہ ہےکہ بہار میں بھی طیور بے پر و بال ہیں
میرے ہمسفر ! نہ ملول ہو، یہ ملال میرے ملال ہے

میری بے کلی سے خفا نہ ہو، میری جستجو کا بھرم نہ کھو
تجھے اک جواب وبال ہے، میرے لب پہ لاکھ سوال ہیں

وہ تھی اک لکیر سی آبجو،یہ ہے، چار سو کی فضائے ہو
وہ گھڑی تھی تیرے وصال کی، یہ فراق کے مہ و سال ہیں

یہ عجیب حسن قیاس ہے، کہ جو دور ہے وہی پاس ہے
یہ تصورات کے واہمے، میرے دشتِ غم کے غزال ہیں

یہ جو عرصہ گاہِ خیال ہے، تیرا فن ہے تیرا جمال ہے
میرے شعر ہوں کہ ادب میرا، یہ سبھی تیرے خد و خال ہے

یہ عجب طرح کا تضاد ہے ، یہ دل و نظر کا فساد ہے
میرے تجربے ہیں کمال پر ، میرے درد رو بہ زوال ہیں




تزئین شدہ شکل دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
Dr Saif Qazi


غزل

وہ کوئی اور نہ تھا، چند خشک پتے تھے
شجر سے ٹوٹ کے جو فصل گل پہ روئے تھے

ابھی ابھی تمہیں سوچا تو کچھ نہ یاد آیا
ابھی ابھی تو ہم ایک دوسرے سے بچھڑے تھے

تمہارے بعد چمن پر جب ایک نظر ڈالی
کلی کلی میں خزاں کے چراغ جلتے تھے

تمام عمر وفا کے گنہگار رہے
یہ اور بات کہ ہم آدمی تو اچھے تھے

شب خاموش کو تنہائی نے زباں دے دی
پہاڑ گونجتے تھے، دشت سنسناتے تھے

وہ اک بار مرے جن کو تھا حیات سے پیار
جو زندگی سے گریزاں تھے روز مرتے تھے

نئے خیال اب آتے ہیں ڈھل کے زہن میں
ہمارے دل میں کبھی کھیت لہلہاتے تھے

یہ ارتقاءکا چلن کے ہر زمانے میں
پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے تھے

ندیمؔ جو بھی ملاقات تھی ادھوری تھی
کہ ایک چہرے کے پیچھے ہزار چہرے تھ