مجروح سلطانپوری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مجروح سلطانپوری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi



سوزِ جاناں دل میں سوز دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں  بنتا گیا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں  بنتا گیا

شرحِ غم تو مختصر ہوتی گئی اس کے حضور
لفظ جو منہ سے نہ نکلا داستاں  بنتا گیا

دہر میں مجروحؔ کوئی جاوداں مضموں کہاں
میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا
Dr Saif Qazi

مجروحؔ سلطان پوری کی ایک  غزل جو مجھے بہت پسند ہے۔

ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

اس کوۓ تشنگی میں بہت ہےکہ ایک جام
ہاتھ آ گیا ہے دولت بیدار کی طرح

وہ تو کہیں ہے اور مگر دل کے آس پاس
پھرتی ہے کوئی شۓ نگہ یار کی طرح

سیدھی ہے راہ شوق ، پہ یونہی کہیں کہیں
خم ہو گئی ہے گیسوۓ دل دار کی طرح

بے تیشئہ نظر نہ چلو راہ رفتگان
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح

اب جا کے کچھ کھلا ہنر ناخن جنوں
زخم جگر ہوئے لب و رخسار کی طرح

مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوۓ ہیں گنہگار کی طرح