Ahemad faraz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ahemad faraz لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi
احمد فرازؔ
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جسکی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فرازؔ
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں
Dr Saif Qazi


ٹھاني تھي دل ميں، اب نہ مليں گے کسي سے ہم
(مومن خان مومنؔ)

ٹھاني تھي دل ميں، اب نہ مليں گے کسي سے ہم
پر کيا کريں کہ ہو گئے ناچار جي سے ہم

ہم سے نہ بولو تم، اسے کيا کہتے ہيں بھلا؟
انصاف کيجے، پوچھتے ہيں آپ ہي سے ہم

کيا گل کھلے گا ديکھيے ہے فصل ِ گل تو دور
اور سوئے دشت بھاگتے ہيں کچھ ابھي سے ہم

کيا دل کو لے گيا کوئي بيگانہ آشنا
کيوں اپنے جي کو لگتے ہيں کچھ اجنبي سے ہم

Dr Saif Qazi


یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
((احمد فرازؔ
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے

میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے

مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے

دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فرازؔ
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

Dr Saif Qazi

سلسلے توڑ گيا وہ سبھي جاتے جاتے
(احمد فراز)
سلسلے توڑ گيا وہ سبھي جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوہ ِ ظلمت ِ شب سے تو کہيں بہتر تھا
اپنے حصے کي کوئي شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر ميں مرنا جاناں
پھر بھي اک عمر لگي جان سے جاتے جاتے

اسکي وہ جانے اسے پاس ِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپني طرف سے تو نبھاتے جاتے