Dr Saif Qazi

سلسلے توڑ گيا وہ سبھي جاتے جاتے
(احمد فراز)
سلسلے توڑ گيا وہ سبھي جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوہ ِ ظلمت ِ شب سے تو کہيں بہتر تھا
اپنے حصے کي کوئي شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر ميں مرنا جاناں
پھر بھي اک عمر لگي جان سے جاتے جاتے

اسکي وہ جانے اسے پاس ِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپني طرف سے تو نبھاتے جاتے
0 Responses

ایک تبصرہ شائع کریں