Parveen Shakir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Parveen Shakir لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

پروین شاکر کی ایک غزل

چاند میری طرح پگھلتا رہا
نیند میں ساری رات چلتا رہا

جانے کس دکھ سے دل گرفتہ تھا
مُنہ پہ بادل کی راکھ ملتارہا

میں تو پاؤں کے کانٹے چُنتی تھی
اور وہ راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں جب بھٹکتی تھی
کوئی تو تھا جا ساتھ چلتا رہا

موسمی بیل تھی مَیں،سوکھ گئی
وہ تناور درخت ،پھلتا رہا

سَرد رُت میں،مسافروں کے لیے
پیڑ، بن کر الاؤ جلتا رہا

دل، مرے تن کا پھول سا بچہ
پتھروں کے نگر میں پلتا رہا

نیند ہی نیند میں کھلونے لیے
خواب ہی خواب میں بہلتا رہا
Dr Saif Qazi

غزل

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں رو ¿ں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گ

Dr Saif Qazi

اپني رسوائي تيرے نام کا چرچا ديکھوں
(پروين شاکر)

اپني رسوائي تيرے نام کا چرچا ديکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور ميں کيا کيا ديکھوں

نيند آ جائے تو کيا محفليں برپا ديکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائي کا صحرا ديکھوں

شام بھي ہو گئي، دھندلا گئي آنکھيں بھي مري
بھولنے والے! ميں کب تک تيرا رستا ديکھوں

سب ضديں اس کي ميں پوري کروں، ہر بات سنوں
ايک بچے کي طرح سے اسے ہنستا ديکھوں

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کي خوشبو کي طرح
انگ انگ اپنا اسي رت ميں مہکتا ديکھوں

تو ميري طرح سے يکتا ہے مگر ميرے حبيب!
جي ميں آتا ہے کوئي اور بھي تجھ سا ديکھوں

ميں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار
خواب بن کر تيري آنکھوں ميں اترتا ديکھوں

تو ميرا کچھ نہيں لگتا ہے مگر جان ِ حيات
جانے کيوں تيرے ليے دل کو دھڑکتا ديکھوں