امجد اسلام امجد ، Amjad Islam Amjad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
امجد اسلام امجد ، Amjad Islam Amjad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

ہاتھ پہ ہاتھ دَھرے بیٹھے ہیں‘ فرصت کتنی ہے
پھر بھی تیرے دیوانوں کی شہرت کتنی ہے!

سورج  گھر سے نکل چکا تھا کرنیں تیز کیے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی ”مہلت کتنی ہے!“

بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہر میں دیکھو سناٹے کی دہشت کتنی ہے!

لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں‘ کیسے بات کھلے؟
دُنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!

سپنے بیچنے آ تو گئے ہو‘ لیکن دیکھ تو لو
دُنیا کے بازار میں ان کی قیمت کتنی ہے!

دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتلائیں دل میں وحشت کتنی ہے!

ایک ادھورا وعدہ اُس کا‘ ایک شکستہ دل
لُٹ بھی گئی تو شہرِ وفا کی دولت کتنی ہے!

میں ساحل ہوں امجد اور وہ دریا جیسا ہے
کتنی دُوری ہے دونوں میں‘ قربت کتنی ہے

Dr Saif Qazi

غزلِ امجدؔ اسلام امجد 

نہ ربط ہے نہ معانی ، کہیں تو کس سے کہیں!
ہم اپنے غم کی کہانی ، کہیں تو کس سے کہیں!

سلیں ہیں برف کی سینوں میں اب دلوں کی جگہ
یہ سوزِ دردِ نہانی کہیں تو کس سے کہیں!

نہیں ہے اہلِ جہاں کو کو خود اپنے غم سے فراغ
ہم اپنے دل کی گرانی کہیں تو کس سے کہیں!

پلٹ رہے ہیں پرندے بہار سے پہلے
عجیب ہے یہ نشانی کہیں تو کس سے کہیں!

نئے سُخن کی طلبگار ہے نئی دُنیا
وہ ایک بات پرانی کہیں تو کس سے کہیں

نہ کوئی سُنتا ہے امجد نہ مانتا ہے اسے
حدیثِ شامِ جوانی کہیں تو کس سے کہیں!

Dr Saif Qazi

ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی 
دیوار پر لکھی ہوئی تحریر جو بھی تھی 

ہر فرد لاجواب تھا، ہر نقش بے مثال
مِل جُل کے اپنی قوم کی تصویر جو بھی تھی 

جو سامنے ہے، سب ہے یہ،اپنے کیے کا پھل
تقدیر کی تو چھوڑئیے تقدیر جو بھی تھی

آیا اور اک نگاہ میں برباد کر گیا
ہم اہلِ انتظار کی جاگیر جو بھی تھی

قدریں جو اپنا مان تھیں، نیلام ہو گئیں 
ملبے کے مول بک گئی تعمیر جو بھی تھی 

طالب ہیں تیرے رحم کےعدل کے نہیں 
جیسا بھی اپنا جُرم تھا، تقصیر جو بھی تھی

ہاتھوں پہ کوئی زخم  نہ پیروں پہ کچھ نشاں 
سوچوں میں تھی پڑی ہُوئی، زنجیر جو بھی تھی

یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا
عبرت کا ایک درس تھی تحریر جو بھی تھی

Dr Saif Qazi

امجدؔ اسلام امجد کی ایک پیاری سی غزل

یہ رُکے رُکے سے آنسو، یہ دبی دبی سی آہیں
یونہی کب تلک خدایا،  غم زندگی نباہیں

کہیں ظلمتوں میں گھِر کر، ہے تلاشِ دست رہبر
کہیں جگمگا اُٹھی ہیں مرے نقشِ پا سے راہیں

ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا
یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں

کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر  وہیں ڈال دی ہیں بانہیں

مرے عہد میں نہیں ہے،  یہ نشانِ سر بلندی
یہ رنگے ہوئے عمامے  یہ جھکی جھکی کُلاہیں