Munawwar rana لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Munawwar rana لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi
جب بھی دیکھا مرے کردار  پہ دھبا کوئی
دیر تک بیٹھ کے تنہائی میں رویا کوئی

لوگ ماضی کا بھی اندازہ لگا لیتے ہیں
مجھ کو تو یاد نہیں کل کا بھی قصہ کوئی

بے سبب آنکھ میں آنسو نہیں آیا کرتے
آپ سے ہوگا یقیناً  مرا رشتہ کوئی

یاد آنے لگا ایک دوست کا برتاؤ مجھے
ٹوٹ کر گر پڑا جب شاخ سے پتّہ کوئی

بعد میں ساتھ نبھانے کی قسم کھا لینا
دیکھ لو جلتا ہوا پہلے پتنگا کوئی

اس کو کچھ دیر سنا لیتا ہوں رودادِ سفر
راہ میں جب کبھی مل جاتا ہے اپنا کوئی

کیسے سمجھیگا بچھڑنا وہ کسی کا رانا
ٹوٹتے دیکھا نہیں جس نے ستارہ کوئی
Dr Saif Qazi

منوّر رانا کی حسّاس غزل

ہر ایک آواز اردو کو فریادی بتاتی ہے
یہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے

کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہے
جو پر دادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے

جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں چڑیا کا ایک گھونسلہ تھا دادی بتاتی ہے

ابھی تک یہ علاقہ ہے رواداری کے قبضے میں
ابھی فرقہ پرستی کم ہے آبادی بتاتی ہے

یہاں ویرانیوں کی ایک مدت سے حکومت ہے
یہاں سے نفرتیں گذری ہے بربادی بتاتی ہے

لہو کیسے بہایا جائے یہ لیڈر بتاتے ہیں
لہو کا ذائقہ کیسا ہے یہ کھادی بتاتی ہے

غلامی نے ابھی تک ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا
ہمیں پھر قید ہونا ہے یہ آزادی بتاتی ہے

غریبی کیوں ہمارے شہر سے باہر نہیں جاتی
امیرِ شہر کے گھر کی ہر ایک شادی بتاتی ہے

میں ان آنکھوں کے میخانے میں تھوڑی دیر بیٹھا تھا
مجھے دنیا نشے کا آج تک عادی بتاتی ہے