Saif Qazi

غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل

نہ ملا  کبھی کسی سے اسے دیوتا سمجھ کر
بھلا کیسے پوجتا پھر میں اسے خدا سمجھ کر

میں یہ چاہتا ہوں مجھ سے وہ ملے تو دوست بن کے
نہ بڑا سمجھ کے خود کو،  نہ مجھے بڑا سمجھ کر

کوئی انکو یہ بتا دے مرے منہ میں بھی زباں ہے
وہ ستم کریں گے کب تک مجھے بے نوا سمجھ کر

کئے فیصلے ہمیشہ ترے رخ کو دیکھ کر ہی
کبھی باوفا سمجھ کر، کبھی بے وفا سمجھ کر

ترا غم اٹھا رہا ہوں، ترا درد سہہ رہا ہوں
مری بندگی سی الفت کی حسیں جزا سمجھ کر

مرے عشق کو مقدر درجات دے رہا ہے
کبھی ابتدا سمجھ کر، کبھی انتہا سمجھ کر

کوئی حکم دوں اسے میں یہ نہیں مقام میرا
مری بات کاش مانے مری التجا سمجھ کر

مری باطنی حقیقت انھیں کیا دکھائی دے گی
جو مجھے ستا رہے ہیں کوئی سر پھرا سمجھ کر

 وہ زوال_ آدمیت کی ہے شاہراہ جاوید
ہے زمانہ جس کا راہی رہ_ ارتقا سمجھ کر
1 Response

ایک تبصرہ شائع کریں