ماجدؔ دیوبندی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ماجدؔ دیوبندی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi
ماجؔد دیوبندی کی ایک غزل

دل ناداں کو کون سمجھائے
کیا خبر کب کہاں مچل جائے
ڈھل گئے شام کے حسیں سائے
دیکھیے رات کیا ستم ڈھائے
دل کو ضد ہے کہ اس کی بات رہے
خواہ یہ جان ہی چلی جائے
پھر دل سادہ آج ڈھونڈتا ہے
دشت کی دھوپ میں خنک سائے
آسماں تک رہی ہے خشک زمیں
کاش بادل اٹھے برس جائے
ہچکیاں آ رہی ہے ائے ماجدؔ
آج شاید ہم ان کو یاد آئے
Dr Saif Qazi

بندگی کی عزمت کو عرش سے ملا دوں گا
تیرے آستانے پر جب میں سر جھکا دوں گا

عمر بھر دعا مانگی جس نے میرے مرنے کی
میں اسی کو جینے کی عمر بھر دعا دونگا

لاکھ روئے زیبا کو تم چھپاؤ پردے میں
جب بھی دل پکارے گا ہر نقاب اٹھا دوں گا

داستاں تباہی کی آپ پوچھتے کیا ہے
میں اگر سناؤں گا آپکو رلا دوں گا

مسکراتے زخموں سے حال پوچھ لو میرا
آپ کے سوالوں کا میں کیا جواب دوں گا

میں سدا کھلاؤں گا پھول مہر و الفت کے
آتشِ وداوت کو پیار سے بجھا دوں گا

التفاتِ عالی کا یہ جواب ہے ماجدؔ
جب وہ مسکرائیں گے میں غزل سنا دوں گا