فاخرہ بتول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فاخرہ بتول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Dr Saif Qazi

فاخرہ بتولؔ کا دلکش انداز

بنیاد ہل گئی تو مکاں بن کے مٹ گیا
اس بار بھی یقین گماں بن کے مٹ گیا

تعبیر راکھ بن کے اڑی آنکھ میں سدا
جو خواب تھا وہ پل میں دھواں بن کے مٹ گیا

بازی پھر اب کی بار مقدر نے جیت لی
پھر چاہتوں کا ایک جہاں بن کے مٹ گیا

اک دائمی کسک سی جگر میں اتر گئی
اور زخم سرمئی سا نشاں بن کے مٹ گیا

ہے لازوال کربِ مسلسل کا نام ہجر
اور یہ وصال آہ و فغاں بن کے مٹ گیا

بکھری ہوئی ہیں چاروں طرف دل کی کرچیاں
لگتا ہے ایک گھر سا یہاں بن کے مٹ گیا

جذبہ بنا گلاب تو قائم رہا بتولؔ
جوں ہی بنا یہ تیرکماں، بن کے مٹ گیا
Dr Saif Qazi

فاخرہ بتول کا کلام

بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟
کہا، یُوں تو سبھی کچھ ٹھیک تھا پر مات گہری تھی

سُنو بارش ! کبھی خود سے بھی کوئی بڑھ کے دیکھا ہے؟
جواب آیا، اِن آنکھوں کی مگر برسات گہری تھی

سُنو، پیتم نے ہولے سے کہا تھا کیا، بتاؤ گے؟
جواب آیا، کہا تو تھا مگر وہ بات گہری تھی

دیا دل کا سمندر اُس نے تُم نے کیا کیا اس کا؟
ہمیں بس ڈوب جانا تھا کہ وہ سوغات گہری تھی

وفا کا دَشت کیسا تھا، بتاؤ تُم پہ کیا بِیتی ؟
بھٹک جانا ہی تھا ہم کو ، وہاں پر رات گہری تھی

تُم اس کے ذکر پر کیوں ڈوب جاتے ہو خیالوں میں؟
رفاقت اور عداوت اپنی اس کی سات گہری تھی

نظر آیا تمہیں اُس اجنبی میں کیا بتاؤ گے؟
سُنو، قاتل نگاہوں کی وہ ظالم گھات گہری تھی