Random Guy



کیفؔ بھوپالی کی ایک منفرد غزل

قارئین اکرام ! آج آپ حضرات کے ساتھ ہم کیفؔ بھوپالی کی ایک بالکل منفرد انداز میں کہی ہوئی غزل شیئرکرنے جا رہے ہیں کافی عرصہ پہلے ہم نے یہ غزل اپنے بلوگنقوش سخن  کے لیے ڈیزائن کی تھی ۔
 لیکن آج ہمیں انٹرنیٹ پر تلاش کرتے ہوئے یہ غزل بعض نئے اشعار کی زیادتی کے ساتھ ملی۔ اس لیے ہم نے مناسب سمجھا کے دونوں طرح سے اس غزل کو با ذوق قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔
سرخ رنگ میں جو غزل پیش کی گئی ہے وہ ہمیں جناب فاروق ؔارگلی کی کتاب  'کاروان غزل ' سے حاصل ہوئی ہے اور سیاہ رنگ میں پیش کی گئی غزل ہمیں انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ملی۔

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
تہمتیں، بدنامیاں، رسوائیاں

زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں، مجبوریاں، تنہائیاں

کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات
کروٹیں، بے تابیاں، انگڑائیاں

کیا یہی ہوتی ہےشام انتظار
آہٹیں ، گھبراہٹیں ، پرچھائیاں

میرے دل کی دھڑکنوں میں رہ گئی
چوڑیاں ، موسیقیاں ، شہنائیاں


دیدہ و دانستہ ان کے سامنے
لغزشیں، ناکامیاں، پسپائیاں


رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور
حکمتیں، آگاہیاں، دانائیاں

زخم دل کے پھر ہرے کرنے لگیں
بدلیاں ، برکھا رتیں ، پروائیاں


کیفؔ، پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں، خاموشیاں، گہرائیاں

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
تہمتیں، بدنامیاں، رسوائیاں

زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں، مجبوریاں، تنہائیاں

کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات
کروٹیں، بے تابیاں، انگڑائیاں

کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار
آہٹیں، گھبراہٹیں، پرچھائیاں

ایک رند مست کی ٹھوکر میں ہیں
شاہیاں، سلطانیاں، دارائیاں

رہ گئیں اک طفل مکتب کے حضور
حکمتیں، آگاہیاں، دانائیاں

ایک پیکر میں سمٹ کر رہ گئیں
خوبیاں، زیبائیاں، رعنائیاں

دیدہ و دانستہ ان کے سامنے
لغزشیں، ناکامیاں، پسپائیاں

ان سے مل کر اور بھی کچھ بڑھ گئیں
الجھنیں، فکریں، قیاس آرائیاں

چند لفظوں کے سوا کچھ بھی نہیں
نیکیاں، قربانیاں، سچائیاں

کیفؔ، پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں، خاموشیاں، گہرائیاں
1 Response
  1. Unknown Says:

    Kaif Bhopali ki is Ghazal ka jawaab nahi.Aap ne kya khoob intekhab kiya hai.


ایک تبصرہ شائع کریں