اب خوشي
ہے نہ کوئي درد رلانے والا
(ندا فاضلي)
اب خوشي
ہے نہ کوئي درد رلانے والا
ہم نے اپنا
ليا ہر رنگ زمانے والا
اس کو رخصت
تو کيا تھا، مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر
لے گيا، گھر چھوڑ کے جانے والا
اک مسافر
کے سفر جيسي ہے سب کي دنيا
کوئي جلدي
ميں، کوئي دير سے جانے والا
ايک بےچہرہ
سي اميد ہے چہرہ چہرہ
جس طرف
ديکھيے آنے کو ہے آنے والا

ایک تبصرہ شائع کریں